مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ نے منگل کی شب متعدد ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی فوج کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ایرانی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا، ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت، بحری ناکہ بندی اور اقتصادی جنگ کا تسلسل ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف امریکی جارحانہ اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہیں، بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی واضح خطرہ شمار ہوتے ہیں۔
ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف امریکی جارحیت کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اپنے فطری حقِ دفاع کے تحت اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو، جو اب بھی ایران کے خلاف امریکی فوجی کاروائیوں کی حمایت کر رہی ہیں اور متعدد امریکی جارح جنگی جہازوں کو دفاعی حملوں کا نشانہ بنایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے اپنے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج اپنے فطری حقِ دفاع کے استعمال میں کسی قسم کی شش و پنج کا مظاہرہ نہیں کریں گی اور دشمن کی ہر فوجی جارحیت کا مناسب انداز میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کی سنگین خلاف ورزیوں کے مقابلے میں فوری کاروائی کی جانی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ